نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

میت کے پوسٹ مارٹم اور اذیت کا مسئلہ اور رہنمائی

(سوال):       کیا میت کا پوسٹ مارٹم (Post-mortem) کرنے سے اسے کسی قسم کی تکلیف یا اذیت پہنچتی ہے؟ انہوں نے کہیں سے سن رکھا ہے کہ جس طرح زندوں کو چیر پھاڑ سے تکلیف ہوتی ہے، ویسے ہی مردے کو بھی پوسٹ مارٹم کے عمل سے اذیت ہوتی ہے۔ براہِ کرم اس معاملے میں شرعی نقطہ نظر سے مستند تحقیق اور رہنمائی فرمائیں کہ اسلام اس عمل کو کس حد تک جائز قرار دیتا ہے اور میت کی حرمت کا کیا تقاضا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      انسانی جسم کی حرمت و تقدس اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے، اور شریعت نے جس طرح زندہ انسان کے احترام کا حکم دیا ہے، اسی طرح موت کے بعد بھی اس کے جسم کی تکریم کو لازمی قرار دیا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں صراحت موجود ہے کہ مردے کی ہڈی توڑنا ویسا ہی ہے جیسا کہ زندہ کی ہڈی توڑنا۔ [سنن ابو داؤد: 3207] جس سے فقہائے کِرام نے یہ استدلال کیا ہے کہ میت کو پہنچنے والی ہر قسم کی بے حرمتی یا جسمانی توڑ پھوڑ اسے اذیت پہنچانے کے مترادف ہے۔ اگرچہ طبی نقطۂ نظر سے موت کے بعد اعصابی نظام (Nervous System) کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور جسم حیاتیاتی طور پر درد محسوس کرنے کے ق...
حالیہ پوسٹس

غیر مسلم بینکوں کے سود کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       میں نے ایک ویڈیو میں ایک عالمِ دین کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اگر کوئی بینک غیر مسلموں (خصوصاً ہندوؤں) کے زیرِ انتظام ہو یا اس کے مالکان ہندو ہوں، تو ایسے بینکوں میں جمع شدہ رقم پر ملنے والا اضافی منافع یا سود مسلمانوں کے لیے لینا جائز ہے۔ ​     دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میں نے یہ بات درست سنی ہے؟ اور کیا شرعی طور پر غیر مسلموں کے بینکوں سے حاصل ہونے والے سود یا نفع کا حکم وہی ہے جو عام بینکوں کا ہے، یا اس میں کوئی استثنائی صورت موجود ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کی مکمل وضاحت فرما دیں تاکہ اطمینانِ قلب حاصل ہو سکے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      سود کی حرمت قرآن و سنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے اور اس پر پوری امتِ مسلمہ کا اجماع ہے کہ یہ ایک سنگین معصیت ہے جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے اعلانِ جنگ کیا گیا ہے۔      جہاں تک غیر مسلموں کے زیرِ انتظام بینکوں سے حاصل ہونے والے نفع یا سود کا تعلق ہے، تو اس سلسلے میں فقہائے احناف کے قدیم متون میں ایک مخصوص بحث ملتی ہے، جس میں امام ...

نو مسلم لڑکی سے نکاح کے سلسلے میں شرعی ضوابط اور تربیتِ نو کے حکیمانہ اصول

(مسئلہ):       اگر کوئی مسلمان لڑکا کسی غیر مسلم لڑکی سے نکاح کرنا چاہے، اور وہ لڑکی (نکاح کی غرض سے یا اپنی مرضی سے) اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جائے، تو اس صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟ کیا ایسی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے؟ نیز، ایک مسلمان شوہر کے لیے اس لڑکی میں کن کن خوبیوں اور اوصاف کو پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان کی ازدواجی زندگی شرعی حدود کے مطابق گزر سکے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نومسلم خاتون سے نکاح: شرعی تقاضوں اور قانونی ضوابط کی روشنی میں ایک جامع فکری و تربیتی رہنمائی      جب کوئی غیر مسلم خاتون صدقِ دل سے اسلام قبول کر لیتی ہے اور توحید و رسالت کی گواہی دے دیتی ہے، تو وہ اسی لمحے سے ملتِ اسلامیہ کا حصہ بن جاتی ہے اور اس کے وہ تمام حقوق ثابت ہو جاتے ہیں جو ایک پیدائشی مسلمان خاتون کے ہوتے ہیں۔ ایسی خاتون سے کسی بھی مسلمان مرد کا نکاح شرعاً نہ صرف جائز ہے بلکہ اگر نیت اس خاتون کی دینی تربیت اور اسے کفر کے ماحول سے نکال کر ایمانی زندگی فراہم کرنا ہو، تو یہ عمل باعثِ اجر و ثواب بھی ہے۔ نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام شرعی ...

پندرہ دن سے کم وقفۂ طہر ہونے کی صورت میں حیض اور استحاضہ کی تفریق کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ): السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!      ایک خاتون کے ایامِ حیض (Menstrual Cycle) کی تفصیلات درج ذیل ہیں، جس کے بارے میں شرعی حکم مطلوب ہے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2025ء سے قبل بیماری کی وجہ سے انہیں تقریباً دو سے تین ماہ تک خون نہیں آیا تھا۔ اب حالیہ مہینوں کی تفصیل یہ ہے: 15  دسمبر 2025 کو شام 4:30 بجے سے، 21 دسمبر تک۔ یعنی تقریباً 6 دن۔ جنوری 2026 : خون نہیں آیا، مکمل طہر۔ 6  فروری 2026 کو رات 2:00 بجے سے، 15 فروری کی صبح تک۔ یعنی تقریباً 9 دن۔ 15 مارچ 2026 کو شام 5:30 بجے سے، 24 مارچ تک۔ یعنی 9 دن آج 30 مارچ کو صبح 10:00 بجے جاری ہے .....       24 مارچ کو خون بند ہونے کے بعد، محض 7 دن کے وقفے سے آج (31 مارچ) دوبارہ خون آنا شروع ہو گیا ہے۔ کیا یہ نیا خون "حیض" شمار ہوگا یا اسے "استحاضہ" (بیماری کا خون) مانا جائے گا؟ نیز کیا سابقہ بیماری کی وجہ سے ایام کی اس تبدیلی کو "عادت کا بدلنا" تصور کیا جا سکتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خون کے مختلف مراحل اور اسلامی حکم کے درمیان فرق کو سمجھنا      دو حیض کے درمیان طہرِ تام ...

سورہ یونس تا سورہ عنکبوت، تفسیر الجلالین کی تدریس سے متعلق علمی و روحانی رہنمائی

(مسئلہ): السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!      حضرت الاستاذ (زید مجدکم)! اللہ کے فضل و کرم سے اس سال دوبارہ مدرسے میں "تفسیر الجلالین" کا وہ حصہ جو سورہ یونس سے شروع ہو کر سورہ عنکبوت پر ختم ہوتا ہے، بندہ کے سپرد کیا گیا ہے۔ تدریس کے اس سفر کے حوالے سے آپ کی خصوصی علمی رہنمائی اور دعاؤں کی درخواست ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      ماشاءاللہ، یہ نہایت مبارک اور سعادت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوبارہ اپنی کتاب کی خدمت اور "تفسیر الجلالین" جیسے وقیع فن کی تدریس کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ سورۂ یونس سے سورۂ عنکبوت تک کا حصہ مضامین کے اعتبار سے انتہائی متنوع اور سبق آموز ہے، جس میں توحید، رسالت، قصص الانبیاء اور صبر و استقامت کے ایسے پہلو موجود ہیں جو طالب علم کے علمی ذوق کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی تربیت کا بھی بہترین ذریعہ بنتے ہیں۔ اس عظیم ذمہ داری پر دلی مبارکباد قبول فرمائیں اور دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کی زبان میں تاثیر، ذہن میں جلا اور وقت میں برکت عطا فرمائے تاکہ آپ کماحقہ اس امانت کو اگلی نسل تک منتقل کر سکیں۔ فنِ تدریسِ قرآن: تفسیر الجلال...

غیر سید شوہر اور سید زادی بیوی والے گھرانے کو زکات دینے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ایک شادی شدہ جوڑے کے حوالے سے زکات کا مسئلہ دریافت کرنا ہے۔شوہر "انصاری" (غیر سید) ہے اور زکات کا مستحق ہے، جبکہ بیوی "سادات" (سید خاندان) سے تعلق رکھتی ہے۔      دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسے جوڑے کو زکات دی جا سکتی ہے؟ چونکہ بیوی سید زادی ہے اور سادات پر زکات حرام ہے، جبکہ شوہر غیر سید ہونے کی وجہ سے مستحقِ زکات ہو سکتا ہے، تو اس صورتِ حال میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا اس جوڑے کو دی جانے والی زکات ادا ہو جائے گی یا اس میں کوئی ممانعت ہے؟ ​     براہِ کرم اس حوالے سے مکمل شرعی رہنمائی اور گائیڈ لائنز فراہم فرما دیں۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      ساداتِ کرام کا احترام اور ان کی معاشی کفالت کا مسئلہ امتِ مسلمہ کے لیے ہمیشہ سے نہایت حساس اور اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس مخصوص صورتِ حال میں جہاں شوہر غیر سید (انصاری) اور مستحقِ زکات ہے، جبکہ بیوی سید زادی ہے، شرعی نقطہ نظر سے حکمِ زکات کی وضاحت نہایت باریک بینی کی متقاضی ہے۔      بنو ہاشم (ساداتِ کرام) کی عزت و تکریم کی خاطر ان پر زکات و صدقاتِ وا...

سرمایہ کاری پر ماہانہ متعین نفع (Fixed Profit) اور سود سے بچنے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       میرے ایک دوست کے پاس ساڑھے چار لاکھ (4.5 Lakhs) روپے کی زائد رقم موجود تھی، جسے وہ کہیں سرمایہ کاری (Investment) کی غرض سے لگانا چاہتے تھے۔ میں نے اپنے ایک دوسرے دوست سے رابطہ کیا جو کاروبار کرتے ہیں اور ان سے یہ بات طے کی کہ مذکورہ رقم کو کاروبار میں اس شرط پر لگایا جائے کہ اس پر ہونے والے "حقیقی نفع" میں فریقین کا حصہ (Percentage) مقرر ہو۔ میں نے اس بات کی خاص تاکید کی تھی کہ ہمیں سود کی کسی بھی صورت سے بچنا ہے، اس لیے کوئی بھی رقم "فکس" (Fixed Amount) نہیں ہونی چاہیے، بلکہ جتنا بھی نفع حاصل ہوگا، اسی کی بنیاد پر تقسیم ہوگی۔ ​     لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ وہ کاروباری دوست ہر ماہ "ساڑھے سات ہزار روپے" (7,500) بطورِ نفع دینے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح ماہانہ بنیادوں پر ایک متعین رقم (Fixed Amount) وصول کرنا شرعاً جائز ہے یا یہ سود (Riba) کے زمرے میں آتا ہے؟ نیز، چونکہ میں نے اس معاملے میں ثالث (Middleman) کا کردار ادا کیا ہے، تو کیا اس ممکنہ گناہ میں میری شمولیت کا اندیشہ ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرح...